ACC - Fundamentals of auditing and business
ACC311ACC501
ACF - (Accounting And Finance Related)
ACF619ACFI619
COM - (Commerce Related)
COM619COMI619
ECO - (Economics Related)
ECO401 ECO402 ECO403 ECO404
ENG - (English Related)
ENG001 ENG101 ENG201 ENG301 ENG401
ETH201 - Ethics (for Non-Muslims)
ETH201
ISL201 - Islamic Studies
ISL201
IT - (Info Tech Related
IT000IT0001IT430IT619ITI619
MIS - (Project And Internship Report)
MIS619 MISI619MIS620 MISI620
PAD - (Public Administration Related)
PAD619 PADI619
PAK301 - Pakistan Studies
PAK301PAK302
PHY - (Physics Related)
PHY101 PHY301
PSC201 - International Relations
PSC201PSC401
SOC - (Socialogy Related)
SOC101 SOC401
STA - (Statistics and Research)
STA301 STA630
URDU - (Urdu Related)
URD101
VUPROJECTS
AIOU PROJECTS
VUDESK TUBE
VUDESK APP
IT INTERNSHIPS FB Page
FB Group
DESK MEMBERS

APPLY NOW  | SIT (STEP IN SECURITY) | Ghrapical Password | Smart ETL Tool | SMS BLOCKER

عمر حیات محل: چنیوٹ کا تاریخی شاہکار

image could not load
محل کی پانچ منزلہ عمارت

عمر حیات محل جس کو چنیوٹ کا تاج محل بھی کہا جاتا ہے شیخ عمر حیات نے قیامِ پاکستان سے قبل 1923ء میں اپنے بیٹے گلزار حیات کے لیے بنوایا تھا یہی وجہ ہے کہ آج بھی کچھ لوگ اسے گلزار منزل کہہ کر پُکارتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب چنیوٹ کی شیخ برادری پورے ہندوستان میں بہت معروف تھی، عمر حیات اسی برادری سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا شمار بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔

شہر کے عین وسط میں واقع اس محل میں اب لائبریری قائم کر دی گئی ہے اور یہاں ہر وقت علم کی پیاس بُجھانے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔  

چودہ مرلوں پر محیط یہ محل تہہ خانوں سمیت بلند و بالا پانچ منزلوں پر مشتمل ہے۔

محل میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ اس میں لکڑی کا کام بہت نفاست سے کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اسے "لکڑی کا شاہکار" بھی کہا جاتا ہے۔

image could not load
محل کو لکڑی کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے

محل کی تعمیر برصغیر کے مشہور کاریگر اور ماہر تعمیر استاد الہی بخش پرجھہ نے کی جن کی شہرت کے چرچے انگلستان تک ہوا کرتے تھے۔

مین گلی سے محل کے احاطے میں داخل ہوں تو نظر سامنے کی انتہائی خوبصورت دیواروں پر پڑتی ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ یہ واقعی فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔

 داخلی دروازے کے ساتھ لگائی گئیں دو میں سے ایک تختی پر استاد الہی بخش پرجھہ سمیت ساتھی مستریوں اور کاریگروں کے نام درج ہیں جبکہ دوسری تختی پر ان حضرات کے نام کندہ ہیں جنہوں نے مرمت کے ذریعے اسے تباہی سے بچایا۔

خم دار لکڑی سے بنے دروازوں، کھڑکیوں اور جھروکوں کی ایک منفرد ہی دلکشی ہے۔ دوسری طرف بالکونی، چھتیوں، ٹیرس اور سیڑھیوں پر لکڑی کے کام نے اسے وہ خوبصورتی بخشی ہے جو شاید ہی کسی اور فن تعمیر کو نصیب ہوئی ہو۔  

تاریخ کی کتابوں سے ملتا ہے کہ شیخ عمر حیات محل کی 1937ء میں تعمیر مکمل ہونے سے 2 سال قبل ہی انتقال کر گئے تھے۔ اس طرح وہ اسے اس کی مکمل شکل میں دیکھنے سے محروم رہے۔

image could not load
یہاں ایک لائبریری قائم ہے جس میں 1 ہزار سے زائد کتابیں ہیں
 

1937ء میں محل کی تعمیر مکمل ہوتے ہی گلزار کی ماں فاطمہ بی بی نے اپنے بیٹے کی شادی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کی تاہم شادی کی اگلی ہی صبح بیٹے کی پُر اسرار موت نے ماں کی گود اُجاڑ کر رکھ دی۔

ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور اُس کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے خود بھی اس دُنیا سے رُخصت ہو گئیں۔

وصیت  کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔

اس کے بعد ان کے ورثاء نے محل کو منحوس تصور کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا لیکن گلزار کی ماں کا پنے بیٹے اور خود کو یہاں دفن کروانے کا فیصلہ محل کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔

عمر حیات کے ورثاء کے محل چھوڑنے کے بعد اگلے چند سال تک اُن کے نوکر یہاں مکین رہے اور بعد ازاں اسے یتیم خانے میں تبدیل کر دیا گیا۔

image could not load
محل کے ایک کمرے میں میوزیم بھی بنایا گیا ہے

مناسب نگہداشت نہ ہونے کی وجہ سے عمارت زبوں حالی کا شکار ہوتی گئی اور بالائی حصے کی چھت گر کر تباہ ہو گئی تو یتیم خانہ کہیں اور منتقل کرتے ہوئے اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔

1990ء میں تحصیل چنیوٹ کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر محمد امجد ثاقب نے ضلع جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مل کر اس محل کی بحالی کا بیڑا اُٹھایا اور تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے یہاں لائبریری قائم کر دی گئی۔

لائبریری میں اس وقت 1 ہزار سے زائد نادر کتابیں موجود ہیں۔  

محل کے ایک کمرے میں میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں عمر حیات اور ان کے اہل خانہ کے استعمال میں آنے والی چیزیں رکھی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام اس محل کی مرمت کا کام ابھی بھی جاری ہے۔

image could not load
محل کی مرمت کا کام تاحال جاری ہے

گزشتہ تین دہائیوں سے محل کے نگران اور لائبریری انچارج مشتاق احمد کہتے ہیں حکومت اگر اس محل کے لیے کم از کم دس لاکھ کی سالانہ گرانٹ فراہم کرتی رہے تو اس ثقافتی ورثے کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا جا سکتا ہے اور یہ مُلکی اور غیر مُلکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ 



Views: 208

Comment

Join Virtual University Desk for comments and conversations

Join Virtual University Desk

Comment by sara iman on September 8, 2015 at 1:55pm

wonderful......

Comment by + ★ HAMMAD ★ on August 16, 2015 at 11:28am

Thanks aymi

Comment by Aymi ji on August 16, 2015 at 10:02am
Nice post
Comment by + ★ HAMMAD ★ on August 16, 2015 at 9:39am

Comment by + ★ HAMMAD ★ on August 16, 2015 at 9:39am

Thanks Noor  

Comment by + ★ HAMMAD ★ on August 16, 2015 at 9:39am

Thanks Amal 


BBA (HON)
Comment by + ★ NOOR_UL_HUDA ★ on August 15, 2015 at 10:19pm

NIce post

Comment by + ★ HAMMAD ★ on August 12, 2015 at 7:08pm

Thanks Silent Soul 

Comment by Am@L on August 12, 2015 at 12:19pm
Amazing!
Comment by Silent Soul on August 12, 2015 at 12:01pm
nice post

Sponsers

VUDESK GROUPS

 

© 2018   Created by ʭIsmail Shahʭ.   Powered by

Badges  |  Report an Issue  |  Terms of Service